شمشیر بے نیام: “سپورٹس کلچر” تحریر: سید علی عباس سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ

شمشیر بے نیام
تحریر: سید علی عباس
سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ
کانگریس ممبر پاکستان ہاکی فیڈریشن
ایم فل سپورٹس سائنسز

“سپورٹس کلچر”

کھیل قوموں کی ثقافت اور اقوام عالم میں انکا مثبت چپہرہ پیش کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں. کھیلاڑی اقوام عالم میں اپنے ملک کے علمبردار اور سفارتکار ہوتے ہیں. کھیلوں کے ذریعہ اقوام عالم میں ملک کو اپنی پہچان ، صلاحیت، تقافت، سیاحت، میوزک، کلچرسمیت دیگرایسے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرنے کا موقع میسر آتا ہے جس سے اقوام عالم کی توجہ اس مخصوص کھیل کی بناء پر اس ملک کی جانب مبذول ہو جاتی ہے.

پاکستان میں کھیلوں کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے کراچی میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی میٹنگ میں قائد اععظم محمد علی جناح نے پہلی نیشنل گیمزکی منظوری دی جو کہ 23 تا 25 اپریل 1948 پولو گراؤنڈ کراچی میں کھیلی گئیں. دنیائے کھیل میں ہاکی میں پاکستان کی نمائیندگی کی بنیاد ہمارے عطیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح نے اس وقت ڈالی جب 1948 میں علی اقتدار شاہ دارا کی سربراہی میں پاکستان ہاکی ٹیم کے پہلے بیرون ملک دورہ کی منظوری دی گئی.لندن میں ہونے والے1948 اولمپکس میں پاکستان نے اپنے پہلے انٹرنیشنل انٹرنیشنل دورہ اور اپنہلے ہی انٹرنیشنل میچ میں بیلجیم کے خلاف 0-2 گول سے جیت کی بنیاد رکھی جس سے اقوام عالم میں پاکستان کا سورچ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوا.پاکستان اپنے گروپ پول میں دفاعی چیمپین ہالینڈ اور فرانس جیسی ٹیموں سے بھی ناقابل شکست رہا. 1948 اولمپکس میں پاکستان نے اپنی چوتھی پوزیشن کے ساتھ وطن واپسی کی راہ لی تو پورے ایک پردرد ہجرت کی کیفیت میں مبتلاء پاکستانیوں نے ان کھلاڑیوں کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے پہلی باراپنے تمام غم بھلادیئے.

کھیلوں میں پاکستان کی فتوحات کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا. پاکستان میں کھیلوں کے سب سے بڑے منتظم ادارے پاکستان سپورٹس بورڈ کی بنیاد
1962 میں وزارت تعلیم کے زیرانتظام سپورٹس ڈویلپمنٹ اینڈ کنٹرول آرڈینینس 1962 کے تحت ڈالی گئی. اس قیام کا مقصد پاکستان سپورٹس سپورڈ کو بحثیت ایک کارپوریٹ باڈی کھیلوں کے معیار کو بہتر بنانا اور اسکی ترویج و ترقی کے ساتھ ساتھ اور کھیلوں میں استعمال کئے جانے والے سپورٹس یونیفارم کو انٹرنیشنل معیار کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے رائج کرنا تھا.جس کو بعد ازاں جولائی1977 میں وزارت کھیل،سیاحت اورثقافت کے زیرانتظام کردیا گیا.

پاکستان کا کھیلوں کے شعبہ میں فتوحات کا سلسلہ اس قدر بڑھا کہ 1994 وہ واحد سال قرار پایا کہ پاکستان اقوام عالم میں بطور عالمی چیمپین کرکٹ، ہاکی ، سکواش اور سنوکر کے میدانوں میں ایک ناقابل تسخیرچٹان کی مانند کھڑا نظر نظر آیا.پاکستان میں 10 مقبول ترین کھیلوں کی بات کریں تو کرکٹ، فٹ بال، سنوکر، ٹیبل ٹینس، بیڈ منٹن ، سکواش، ہاکی، ٹینس، باکسنگ اور والی بال کو پسندیدہ کھیلوں میں شمار کیا جاتا ہے. والی بال جو کہ پاکستان کی دیہاتی علاقہ جات میں مقبول عام ہے اور اس کے ٹورنامنٹس تقریبا پورا سال کراچی لاہور ، فیصل آباد اور گرد و نواح میں منعقد ہوتے رہتے ہیں جس میں تماشائیوں کی کثیر تعداد بھی حوصلہ افزائی کے لئے آتی ہے.باکسنگ کا کھیل دوسری کھیلوں کے مقابلہ میں تیزی سے دلچسپی کا مرکزبنتا چلا جارہا ہے. پاکستان بھر میں باکسنگ کے کلب چل رہے ہیں اور کراچی باکسنگ کے شعبہ میں ٹینلنٹ کو نکھارنے میں پیش پیش نظر آتا ہے.پاکستان میں باکسنگ کے کھیل میں نوجوانوں کی دلچسپی کی ایک بڑی وجہ برطانوی نژاد پاکستانی کھلاڑی عامر خان بھی ہے جس کی پاکستان میں پرستاروں کی خاصی بڑی تعداد موجود ہے.ٹینس کی بات کریں تو یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس کھیلو کو سب سے زیادہ شہری علاقوں میں پزیرائی ملتی دکھائی دیتی ہے.یہ کھیل کسی حد تک مقبول ہے. اس کھیل میں پاکستان کے پاس کے انٹرنیشنل اعزازات کے حامل کھلاڑیوں کی تعداد اتنی بڑی نہیں جس کی بنیادی وجہ مطلوبہ معیار کے مطابق اس کے انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی، ٹورنامنٹس کا عدم انعقاد اور ایسوسی ایشنوں کی غیر فعالیت کارفرما ہے.

قومی کھیل ہاکی کی بات کریں توقائداعظم محمد علی جناح کے دست مباررک سے پہلی منظوری پانے والے اس کھیل میں پاکستان نے ایک مرد آہن کی مانند اپنا لوہا منوایا. پاکسنا اس کھیل میں 3 مرتبہ اولمپک چیمپین ، 4 مرتبہ عالمی چیمپین رہنے کے ساتھ ساتھ دنائے ہاکی میں ایک بے تاج بادشاہ کی مانند اپنی حکمرانی کی. لیکن بدقسمتی سے یہ کھیل غیر مقبولیت کا شکار ہوکر دن بدن زوال پزیری کے عمل میں گردش کررہا ہے.ڈومیسٹک انفراسٹرکچر کی تباہی، حکومتی اور سیاسی اثرورسوخ سے اس کے انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں نے قومی کھیل کو ایک سیاسی کھیل میں تبدیل کردیا.90 کی دہائیوں میں جہانگیر خان اور جان شیر خان نے سکواش کو عالمی میدانوں میں پاکستان کی پہچان کا ذریعہ بنایا. اس کھیل میں عالمی چیمپین اور پوری دنیا کے سکواش اعزازت حاصل کرنے والے کھکلاڑیوں کا تعلق بھی پاکستان سے ہی ہے.بیڈمنٹن پاکستان میں کم بجٹ کھیلوں میں شمار ہوتی ہے.جو کہ میدانی اعتبار سے کم رقبہ میں کھیلے جانے والی کھیلوں میں شامل ہے. اس کھیل میں پھرتی اور مہارت کے باعث پاکستان میں خواتین کی توجہ عمومی طور پر اس کھیل کی جانب زیادہ مبذول ہے.پاکستان میں اس کھیل کے مقبلولیت کے گراف کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہین کھیل اس کھیل کو درجاتی تقسیم میں درمیانے درجہ میں رکھا جاتا ہے. ٹیبل ٹینس، سنوکر اور فٹ بال کا کھیل بھی عوامی توجہ کو حاصل کرنے میں کایاب رہا. سنوکر کا کھیل جس میں پاکستان 1994 میں عالمی چیمپین رہا 90 کی دہائی میں اس کھیل نے ایک کلچرکی بنیاد ڈالی. قائد اعظم محمد علی جناح کے پسندید کھیلوں میں سے ایک اس کھیل نے ہر عوامی رسائی کے مقام پر ڈیرے ڈال دیئے اور جابجا ہر جاء اس کے ٹیبل شائقین کو کی توجہ کو مرکوز کرتے نظر آتے ہیں.فٹ بال کا کھیل منتظم ادارہ کے ارباب اختیارکی سیاست اور کھینچا تانی کے باعث بین الاقوامی سطح پر ایک طویل عرصہ معطلی کا شکار رہا. جس سے ہمارے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل معیار کے ایونٹس میں شرکت سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا.قومی کھیل ہاکی ہونے کے باوجود پاکستان کا مقبول ترین کھیل کرکٹ ہے جس میں پاکستان بطور عالمی چیمپین اپنی صلاحیتوں کا اعتراف دنیا بھر سے کراچکا ہے

کھیلوں کے شعبہ میں کھلاڑیوں کی ذہنی ،جسمانی ،اخلاقی اور نفسیاتی تربیت سے کھیلوں کے معیار کو بہتر بنیا جا سکتا ہے. اس سلسلہ میں کھیلوں کے منتظم اداروں کو سپورٹس سائینسز ماہرین کی خدمات حاصل کرنا ہونگیں. کھیلوں میں جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کامیابی کی منازل طے کی جاسکتی ہیں. سپورٹس سائینسز کے شعبہ میں ماہرین سپورٹس ایجوکیشن پروگرام مرتب کرکے کھلاڑیوں کو مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کا حل فراہم کرسکتے ہیں. سپورٹس مینجمنٹ ، فناشل مینجمنٹ، آرگنایزیشنل مینجمنٹ، سائنٹفک ٹریننگ، سائینٹفک کوچنگ، سپورٹس نیوٹریشن، سپورٹس سائیکالوجسٹ، سپورٹس سائیکاٹرسٹ، سپورٹس فزیشن، سپورٹس مارکیٹنگ جیسے کئی شعبوں سے عاری ہمواری سپورٹس فیڈریشز آج بھی اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کی بجائے ایک شترمرغ کی مانند ریت میں سر دبائے کھڑی ہیں.بحثیت ایک سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ میں سمجھتا ہوں کہ سپورٹس سائینسز ماہرین ہی کھیلوں میں انقلابی تبدیلیاں لاسکتے ہیں. کھلاڑیوں کی تربیت اور نشوونما کے لئےبہترین سائینٹفک ریسرچ کی مدد لئے بغیر کامیابی قسمت سے ہی قدم چومے گی.

پاکستان زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں