شمشیر بے نیام: “صحت کارڈ اور کھلاڑی” تحریر: سید علی عباس سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ، کانگریس ممبر پاکستان ہاکی فیڈریشن

شمشیر بے نیام
تحریر: سید علی عباس
سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ
کانگریس ممبر پاکستان ہاکی فیڈریشن
ایم فل ریسرچ سکالرسپورٹس سائنسز

“صحت کارڈ اور کھلاڑی”
خبر گرم ہے کہ “حکومت پنجاب کی جانب سے موجودہ و سابقہ ارکان اسمبلی کے لئے تاحیات مفت طبی سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کئے جارہے ہیں” اس سسلسلہ میں قانون سازی حتمی مراحل میں داخل ہورہی ہے. تعلیم، صحت سمیت مفاد عامہ کے شعبہ جات حکومت وقت کی اولین ذمہ داریوں مٰیں سے ہیں اور جس کو ہر دورحکومت میں اپنے تئیں بالاستعداد سرانجام دینے میں کوئی کسر روا نہیں رکھی جاتی. صحت مند اور پڑھا لکھا معاشرہ قوموں کی ترقی کا اہم زہنہ شمار ہوتا ہے.
مقولہ مشہور ہے کہ کسی نے بھوکے سے پوچھا کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو جواب ملا “چارروٹیاں” اس مقولے کے مصداق حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کے اقدامات قابل تحسین و تفخر لیکن اراکین اسمبلی کی تعداد حلقہ وار بنیادوں پر محیط ہوتی ہے لیکن ایک کھلاڑی پورے ملک کا ترجمان ہوتا ہے. 20 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں 16 کھلاڑیوں میں شامل ہونا کس قدر بڑے اعزاز کا حامل کارنامہ ہوتا ہے اسکا اندازہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب بخوبی لگا سکتے ہیں جو کہ بذات خود پاکستان کے ان ٹاپ کلاس کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اقوام عالم میں اتنا بلند کیا کہ پاکستان کو رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا.
ایک سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ ہونے کے ناطے پاکستان کے کھیلوں کا ذکر کروں تو قومی کھیل ہاکی کے بغیر یہ ذکر ادھورا نظر آتا ہے. مفت صحت کی سہولیات ویسے تو ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن قومی کھیل کے چند کھلاڑیوں کا تذکرہ ان سنجیدہ شائقین ہاکی کے لئے ہے جو قومی کھیل سے جڑے مسائل اور انکے تدارک کے لئے فکرمند نظر آتے ہیں. اولمپکس کی بات کریں تو پاکستان میں کھیلی جانے والی تمام کھیلوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 300 سے 400 اولمپینز موجود ہیں جس میں سے سب ساے زیادہ اولمپینز قومی کھیل ہاکی سے منسوب ہیں. ان اولمپینز میں فلائینگ ہارس سمیع اللہ، گولڈن پلیئر اور دنیائے ہاکی میں سب سے زیادہ میڈلز کے حامل کھلاڑیوں میں شمار منظور جونیئر، دیوار چین کا خطاب پانے والے پاکستان کی سیسہ پلائی دفائی فل بیک منظور الحسن سینئر، رشید الحسن، راؤ سلیم ناظم، حنیف خان، وسیم فیروز، خواجہ جنید، اختر رسول، خواجہ ذکاء الدین، برگیڈیئر حمیدی، کرنل مدثراصغر، احمد عالم، خالد محمود، ایاز محمود، نوید عالم، دانش کلیم،شہناز شیخ ، اپنے دور میں اقوام عالم میں اپنے پینلٹی کارنر کے شعبہ میں بطور سپیشلسٹ مانے جانے والے خالد بشیر سمیت کئی اولمپینز اپنے بہتریں پیشہ ورانہ کیریئر کے ساتھ منسلک ہیں.
صحت کے مسائل اور تسلسل کے ساتھ سپورٹس انجری ایک کھلاڑی کی زندگی کا جزو ہوتے ہیں اور انکے تدارک کے لئے اسکو سرتوڑ کوشش کرنا ہوتی ہے.قومی کھیل میں صحت کے مسائل سے نمٹنے میں درپیش محرکات میں وسائل کی کمی بھی آڑے آتی ہے. تاریخ گواہ ہے کہ بے شمار لیجنڈ کھلاڑی اپنی کسمپرسی کی بناء پر طبی سہولیات کے آڑے آتے مالی وسائل کے پیش نظر اس دار فانی سے کوچ کرگئے. 1994 میں سڈنی میں ہونے والے ورلڈ کپ فائینل کے واحد ہیرو منصور احمد اپنی بیماری کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے، پاکستان کو ورلڈ چیمپین بنانے والے واحد کھلاڑی فائینل میں پینلٹی سٹروک نہ روکتے تو پاکستان کبھی عالمی چیمپین نہ بن پاتا. حخومت پاکستان سے اپنے علاج کی اپیلیں کرتا یہ قومی ہیرو منوں مٹی تلے جاسویا.انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام وائی ایم سی اے اور کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کی انیکسی میں گذارے اور کینسر کے ہاتھوں اپنی زندگی کی بازی ہار گئے. یو بی ایل کے گول کیپر قاسم بھی کینسر کی وجہ سے وفات پاگئے. محمداشفاق پھکو بھی بیماری کے باعث جہان فانی سے کوچ کر گئے. 1968 میکسیکواولمپکس میں پاکستان کے لئے گولڈ میڈل جیتنے والے گول کیپر ذاکر حسین انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اپنے طبی مسائل سے اپنے محدود وسائل میں نبرد آزما ہیں
حکومت پنجاب اورحکومت پاکستان سے استدعا ہے کہ سابق و موجودہ اراکین اسمبلی کے ماشاءاللہ وسائل ان کھلاڑیوں سے کہیں زیایدہ بہتر اور وسیع ہوتے ہیں لیکن 22کروڑ عوام کے حقیقی ترجمان اور اقوام عالم میں پاکستان کا نام سربلند کرنے والے یہ لیجنڈ کھلاڑی بھی مفت طبی سہولیات کے حقییقی حقدار ہیں. ان کھلاڑیوں کو بھی تاحیات صحت کارڈ جاری کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری اور اولین فرائض میں شامل ہے.جس سے نئے آنے والے کھلاڑیوں کو انکے تحفظ کا احساس اور سابق کھلاڑیوں کو ایک قومی سرمایہ ہونے کا فخرمحسوس ہوگا. امید واثق ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اس سلسلہ میں ہنگامی اقدامات کے احکامات بھی صادر فرمائیں گے.

پاکستان زندہ باد، پاکستان ہاکی پائیندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں