پاکستان ہاکی فیڈریشن کی کارکردگی متاثر کن نہیں،آڈٹ پیش کریں بصورت دیگرفنڈز روک دیں،قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

اسلام آباد:13مارچ(پلیئرزڈاٹ پی کے/ ضیاء بخاری) پاکستان ہاکی فیڈریشن کی کارکردگی متاثر کن نہیں، سپورٹس فیڈریشن چار سالہ آڈٹ پیش کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے، ٹاسک فورس نے مالی امداد روکنے کی ہدایات کیں ہیں، قائمہ کمیٹی میں سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ پپیش، حکومت پاکستان اور وزارت کھیل پر تنقید کرنے والے شہباز سینئر کا استعفی کس آئین کے تحت واپس لیا گیا؟ وفاقی وزیر کھیل کارروائی کے لئے بااختیار ہیں، پی ایچ ایف کے ارباب اختیار کو پیش کیا جائے، اقبال محمد علی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس پاکستان سپورٹس کمپلکس اسلام آباد میں چیئر مین آغا حسن بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں کمیٹی کےاراکین اقبال محمد علی خان،محبوب شاہ،محمد افضل کھوکھر،رشید احمد خان،چوہدری ذوالفقار علی بھنڈر،گل داد خان،ذوالفقار علی بہن ،گل ظفر خان،محمد ہاشم نوتزئی،علی زاہد،شاہدہ رحمانی، روبینہ جمیل،شاہین ناز سیف اللہ،نصیبہ چنا اور منورہ بی بی بلوچ کے علاوہ سیکرٹری آئی پی سی اکبر حسین درانی اور ڈپٹی سیکرٹری فیاض الحق کے علاوہ ڈپٹی ڈی جیز پی ایس بی محمد اعظم ڈار ،آغا امجد اللہ،ملک امتیاز حسین اورنے شرکت کی۔ جس میں وفاقی سیکرٹری کھیل برائے بین الصوبائی رابطہ اکبر حسنی درانی نے وفاقی وزارت کھیل کی نمائیندگی کرتے ہوئے رپورٹ پیش کی. رپورٹ میں سپورٹس فیڈریشنوں کے گذشتہ چارسالہ آڈٹ کو پیش کرنے میں لیت و لعل سے کام لینے کی نشاندہی کرتے ہوئے انکے فنڈز کو روکنے کی سفارشات کا بھی ذکر ہے. اکبر حسین درانی نے قائمہ کمیٹی کو بیان کیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی کارکردگی مایوس کن ہے. سپورٹس فیڈریشن اپنے چارسالہ آڈٹ کو پیش کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے.سیکرٹری آئی پی سی اکبر حسین درانی نے بتایا کہ وزارت آئی پی سی وزارت خارجہ و داخلہ کی مشاورت سے کھلاڑیوں کو غیر ملکی مقابلوں کیلئے این او سی فراہم کرتی ہے۔کھیلوں کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے اس لیئے ہم صوبوں کی رضا مندی کے بغیر کوئی بھی ایونٹ نہیں کروا سکتے،پی ایس بی ہر کوارٹر میں فیڈریشنز کو فنڈز فراہم کرتا رہا ہے ،اب ہم نے پہلے ہاکی فیڈریشن کو دیئے گئے 54کروڑ روپے کا آڈٹ کروانا ہے
قائمہ کمیٹی کے اقبال محمد علی نے اکبر حسین درانی وفاقی وزارت کھیل سے استفسار کیا کہ شہباز سینئر کا استعفیٰ کس آئین کے تحت واپس ہوا اور استعفی دینے اور اسکے بعد واپس لینے کی کیا وجوہات تھیں ؟ انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس اپنی جگہ لیکن وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ کارروائی کے لئے مکمل بااختیار ہیں. قائمہ کمیٹی نے کہا کہ کیوں نہ پی ایچ ایف ارباب اختیارکو بلوایا جائے اور اس بابت مکمل تفتیش کی جائے. اقبال محمد علی نے شہباز سینئر کی استعفیٰ واپسی کے فیصلہ کے متعلق سوالات کے ساتھ ساتھ پاکستان ہااکی فیڈریشن کی حالیہ کانگریس کے پوائینٹ آف ایجنڈا کو بھی مہیا کرنے کا کہا ہے.قبال محمد علی خان نے کہا کہ ہاکی کا بیڑا غرق ہو چکا ہے،شہباز سینئر کو واپس بلایا گیا ہے،ہاکی کے صدر کو کمیٹی میں بلایا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی کارکردگی متاثر کن نہیں،آڈٹ پیش کریں بصورت دیگرفنڈز روک دیں،قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں