پاکستان کا قومی کھیل سمگلرزاورمنی لانڈرنگ کرنے والے کے نرغےمیں ہے،وزیراعظم پاکستان کب اسکو بچانے آئیںگے؟ احسان الحق بابر

راولپنڈی:09فروری(پلیئرزڈاٹ پی کے/ ضٰاء بخاری) پاکستان کا قومی کھیل سمگلرزاورمنی لانڈرنگ کرنے والے کے نرغےمیں ہے، وزیراعظم پاکستان کب اسکو بچانے آئیںگے؟، صدرپی ایچ ایف اور سیکرٹری پنجاب ہاکی براہ راست ڈسپلن کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں، اخلاق عثمانی کی ایماء پر راولپنڈی ڈسٹرکٹ میں ہاکی تباہ کی جارہی ہے، موجودہ فیڈریشن کو دیئے گئے پیسے کے اخراجات کی انکوائری کرائی جائے، قومی دولت لوٹنے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے، راولپنڈی ڈسٹرکٹ کو کئی سالوں سے مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے، احسان الحق بابر نیشنل ہاکی ایمپائر
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے قومی ہاکی ایمپائر احسان الحق بابرنے کہا ہے کہ پاکستان کا قومی کھیل سمگلرزاورمنی لانڈرنگ کرنے والے کے نرغےمیں ہے. دوہری شہرت رکھنے والے بزنس پارٹنراپنے بزنس کی ترقی کے لئے ہاکی فیڈریشن کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں. انہیں پاکستان کی ہاکی سے کوئی دلچسپی نہیں . خزانچی پی ایچ ایف اخلاق عثمانی صدر ہاکی فیڈریشن خالد سجاد کھوکھر کا دوست ہے . ٹوٹی ہوئی موٹر سائیکل سے V-8تک کا سفر اور لاہور جم خانہ کی ممبر شپ کی رقم کہاں سے آئی؟
نیشنل ہاکی ایمپائر احسان الحق بابر نے کہا ہے کہ صدرپی ایچ ایف اور سیکرٹری پنجاب ہاکی براہ راست ڈسپلن کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں، اخلاق عثمانی کی ایماء پر راولپنڈی ڈسٹرکٹ میں ہاکی تباہ کی جارہی ہے جو ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے اور گالم گلوچ کرنے والوں کی پشت پناہی کرتا ہے جن پر راولپنڈی ڈسٹرکٹ کی جانب سے 3 سال کی پابندی نافذ کی گئی ہےاور تمام کارروائی پنجاب اور پی ایچ ایف کوبھی بھجوائی گئی.اخلاق عثمانی کے کہنے پر سیکرٹری پنجاب آصف ناز کھرکھر جو کہ صدر ہاکی فیڈریشن خالد کھوکھر کے بھائی ہیں، راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیسے فعال یونٹ کو مسلسل نظر انداز کررہے ہیں.
قومی ہاکی ایمپائر احسان الحق بابر نے کہا ہے کہ مطالبہ کرتا ہوں کہ سکول ہاکی کو دوبارہ رواج دیا جائے،پی ایچ ایف ہیڈ کواٹر اسلام آباد میں بنایا جائے، کھلاڑیوں کا کوٹہ 20فیصد کیا جائے، گراؤنڈز کی کمی کے پیش نظر ہر سکول دو ہاکی کلب کو گراؤنڈز کی سہولت سے مستفید کرائے.جن قوموں کی گراؤنڈز آباد ہوتی ہیں انکی جیلیں اور ہسپتال ویران ہوتے ہیں. انہوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی انتظامی صلاحیتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیموں کے ساتھ نااہل اور سفارشی افراد کو بھیجا جاتا ہے، جو کہ پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں. پاکستان ٹیم کے ساتھ ایمپائرز اور ٹیکنیکل آفیشلز کی ایجوکیٹڈ ٹیم بھیجنے کی ضرورت ہے. پی ایچ ایف نے ٹیکنیکل آفیشل کی تربیت کے لئے کوئی کام نہیں کیا.
قومی ہاکی ایمپائر احسان الحق بابر نے کہا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن ان چیف اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان سےمطالبہ کرتا ہوں کہ اگر پاکستان کے قومی کھیل کو بچانا چاہتے ہیں تو ایک ایماندار اور دلیر ریٹائرڈ جنرل کو پی ایچ ایف کا سرپراہ مقرر کریں ، جو کہ پاکستان کو اینئر مارشل نورخان جیسوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قومی کھیل کو اسکا مقام دوبارہ حاصل کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکے اور پاکستان ہاکی کو سمگلرمافیا سے نجات مل سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں