شمشیر بے نیام: “جاب سینٹر” تحریر: سید علی عباس سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ، کانگریس ممبر پاکستان ہاکی فیڈریشن

شمشیر بے نیام
تحریر: سید علی عباس
سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ
کانگریس ممبر پاکستان ہاکی فیڈریشن
ایم فل سکالرسپورٹس سائنسز

“ جاب سینٹر”

حکومتی رویہ سے نالاں محدود وسائل کا رونا رونے والی پی ایچ ایف کے معاملات میں بگاڑدن بدن بڑھتا چلا جارہا ہے. ان حالات میں بہتر حکمت عملی اختیار کرنے کی بجائے پلاننگ اور مینجمنٹ کے فقدان کا شکار موجودہ پی ایچ ایف ارباب اختیار سازشوں کا جال بننے میں مصروف عمل ہیں، سیاسی بنیادوں ہر پاکستان ہاکی فیڈریشن پر قابض ہونے کے بعد کروڑوں روپے کی خطیر رقوم حکومت خزانوں سے سپیشل گرانٹس اور دیگر مد میں وصول کی گئیں، لیکن انکے استعمال کے طریقہ کار پر کسی بھی قسم کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی بجائے اس محدود لیکن بیش قیمت امداد کو غیرضروری غیر ملکی جوائے رائیڈنگ میں ضائع کردیا گیا.

مقام تاسف یہ ہے کہ سب اچھا ہے کی رپورٹ دینے والے پی ایچ ایف ارباب اختیار کو اچانک کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ سے چند روز قبل خیال آجاتا ہے کہ ہاکی فیڈریشن میں پیسے نہیں، پھر ایک طوفان بدتمیزی اور حکومت مخالف بیانات اور دے مار ساڑھے چار پالیسی تیار کرکے اپنی ناکامیوں کو ملبہ دوسروں پر تھوپنے اور حکوم سمیت عوام کو گمراہ کرنے کی منصوبہ سازیاں شروع کردی جاتیں ہیں. پاکستان ہاکی فیڈریشن جو کہ قومی کھیل کا منتظم ادارہ ہونے کے ناطے ایک تابناک ماضی کا حامل ادارہ بھی ہے جس کی عزت و توقیر کو پامال کرکے رکھ دیا گیاہے، ماضی میں قومی ہیرو کہلانے والے بھی اس ادارے کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے میں ناکام و نامراد نظر آئے.

پاکستان ہاکی فیڈریشن میں سازشوں کا جال بننے والوں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن ماضی میں ان سازشوں کے پیچھے کارفرما عوامل کسی پلان اور ایجنڈا کے تحت قومی کھیل کی عزت اور توقیر پر کسی بھی قسم کی سودے بازی نہیں کرتے تھے. لیکن آج یہ صورتحال یکسر مخلتلف نظر آتی ہے. قومی کھیل کو جس قدر پامال اور بے قدر اس دور میں کیا گیا اسکی نظیر ملنا مشکل ہے. ورلڈکپ ، چیمپینز ٹرافی ، ایشین گیمز سمیت دیگر ٹورنامنٹس میں پاکستان کی کارکردگی کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں. جس کا تمام تر ذمہ دار کھلاڑیوں اور حکومت کو ٹھہرانا قطعی مناسب نہیں. چیک اینڈ بیلنس کے نظام سے عاری پی ایچ ایف میں بندر بانٹ اور جاب سینٹر پالیسی کو بھی موجودہ ہاکی فیڈریشن انتظامیہ نے ہی متعارف کرایا. یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار کی بجائے انکے چیلے چانٹے پریس کانفرنسیں کرتے نظر آتے ہیں.

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی آمدن کے ذرائع کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں لیکن ان رقوم کے استعمال پر کئی انگلیاں اٹھتیں ہیں، کیا ہی بہتر ہوتا کہ بات بے بات غیر ضروری پریس کانفرس اور حکومت مخالف بیانات جاری کرنے کی پالیسی کی بجائے پی ایچ ایف اپنی آفیشل ویب سائٹ پر دیگر بڑے اداروں کی طرح اپنے حسابات اور انکے استعمال کی تفصیلات شائع کردے. تاکہ بات بے بات تنقید کرنے والوں کو بھی کم از کم اس معاملے میں صبر آجائے. لیکن دال میں کچھ کالا نظر آتا ہے. غیر آئینی بھرتیوں، میڈیا ، مارکیٹنگ، فنانس اور ایڈورٹائزنگ کی مد میں افراد کو رقوم کی تقسیم کی تفصیلات کس مد میں شائع کی جائیں شائد یہ پی ایچ ایف ارباب اختیار کے لئے ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو، جس سے پی ایچ ایف پر الزام تراشیاں اور بہتان بازیاں کرنے والوں کو مزید تقویت ملے گی.

صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن جن کو پی ایچ ایف آئین میں ایک مقدس گائے بنا کر رکھا گیا ہے اس تمام نظام کی ترقی و تنزلی کے بالواسطہ اور بلاواسطہ عوامل میں بطور سربراہ شریک ہیں اور براہ راست ذمہ دار بھی. اس ادارے کی ترقی کےلئے ہاکی ویژن، ایڈمنٹریٹو صلاحیت، پلاننگ، مینجمنٹ اور بہترین پروفیشنل ٹیم کا ہونا لازم و ملزوم ہے. عصر حاضر میں قومی کھیل کے ادارے کے ساتھ ایسی صلاحٰتوں سے مزین افراد منسلک نظر نہیں آتے اس کے برعکس ہم نوالہ، ہم پیالہ دوستوں ، رشتہ داروں ، درباریوں اور سفارشی افراد کا ٹولہ ہاکی فیڈریشن کے چہرے کو مزید مسخ کرتا نظر آتا ہے جبکہ ایک بدترین کارکردگی کا جھومر ماتھے پر سجائے موجودہ پاکستان ہاکی فیڈریشن ارباب اختیار اب بھی ایک نئی نویلی دلہن کی طرح شرماتے لجاتے پھر رہے ہیں، سابق کورکردگی پر مٹی پاؤ پالیسی اور این آر او سیاست کے ذریعہ اقتدار کی رسم کے امین کسی نئے آنے والے اور اس رسم کو نبھانے والے کے منتظر نظر آتے ہیں.

پاکستان زندہ باد، پاکستان ہاکی پائیندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں