انٹرنیشنل کک باکسنگ اینڈ مکسڈ مارشل آرٹس چیمپئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے 5گولڈ اور تین سلور میڈل حاصل کرکے ایونٹ میں دوسری پوزیشن لے لی

کراچی:28جنوری(پلیئرزڈاٹ پی کے) آذربائیجان میں انٹرنیشنل کک باکسنگ اینڈ مکسڈ مارشل آرٹس چیمپئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے 5گولڈ اور تین سلور میڈل حاصل کرکے ایونٹ میں دوسری پوزیشن لے لی،

پاکستان کک باکسنگ ٹیم نے آذربائیجان میں انٹرنیشنل کک باکسنگ اینڈ مکسڈ مارشل آرٹس چیمپئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے بیرون ملک پرچم بلند کرتے ہوئے5گولڈ اور تین سلور میڈل حاصل کرکے ایونٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کر لی۔ پہلی بار کسی بیرون ملک ایونٹ میں شرکت کرنے والی پاکستان ویمنز ٹیم کی تینوں کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈلز پر ہاتھ صاف کیا جبکہ مینز ٹیم کے پانچ میں سے دو کھلاڑیوں نے گولڈ جبکہ تین نے سلور میڈلز اپنے نام کیئے۔آذربائیجان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ایران چیمپئن شپ کا فاتح رہا جس کا 45کھلاڑیوں پر مشتمل سب سے بڑادستہ ٹورنامنٹ میں شریک تھا۔ پاکستان کے صرف آٹھ کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ نے حصہ لیا۔ جارجیا تیسرے نمبر پر رہا۔ ایونٹ میں میزبان جارجیا کے علاوہ روس‘ ایران‘ جارجیا‘ کروشیااور پاکستان کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ پاکستان ویمنز ٹیم کی سعیدہ نے میزبان آذربائیجان کے کھلاڑی کو مات دے کر گولڈ میڈل سینے پر سجایا جبکہ رابیعہ بتول نے روسی پلیئر کو ہراکر طلائی تمغہ جیتا۔ ایک اور مقابلے میں فاطمہ نے ایرانی کھلاڑی کو شکست دے کر گولڈ میڈل حاصل کیا۔ مینز ایونٹ میں محمد سہیل نے حریف جارجیا کے کھلاڑی کو ہرا کر طلائی تمغہ حاصل کیا جبکہ عطااللہ نے جارجیئن حریف کو ہراکرخود کو گولڈمیڈل کا حقدار ثابت کیا۔ پاکستان کے نجیب اللہ نے جارجیا‘ احسان اللہ نے ایران اور گل محمد نے کروشیئن کھلاڑی کو ہراکر سلور میڈلز جیتے۔

پاکستان کک باکسنگ فیڈریشن کے چیف پیٹرن ڈاکٹر صدیق پٹنی نے ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم نے اپنی استعداد سے بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو کہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کو ٹیم سے دو گولڈمیڈلز جیتنے کی توقعات تھیں مگر ٹیم نے ایران‘ روس‘ کروشیا‘ جارجیا اور میزبان آذربائیجان جیسی سخت ٹیموں سے مقابلہ کرتے ہوئے پانچ گولڈ اور تین سلور میڈلز جیت کر تاریخ رقم کردی کیونکہ پاکستانی کھیلوں کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی ٹیم نے سو فیصد نتائج دیئے ہوں اور یہ سب کوچ منصور اور منیجر سمیع اللہ کاکڑ کی محنت اور لگن کے سبب ممکن ہوا۔صدیق پٹنی نے کہا کہ ٹیم کو بیرون ملک بھیجنے کا فیڈریشن کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ آئندہ بھی کھلاڑیوں کو غیر ملکی دورے کرائے جائیں گے تاکہ پاکستان کا بیرون ملک پرچم بلند ہوتا رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں