شمشیر بے نیام:”پاکستان ہاکی اور افواج پاکستان کا کردار” تحریر: سید علی عباس سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ

شمشیر بے نیام
تحریر: سید علی عباس
سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ
کانگریس ممبر پاکستان ہاکی فیڈریشن
ایم فل سکالرسپورٹس سائنسز

“پاکستان ہاکی اور افواج پاکستان کا کردار”

قیام پاکستان سے ہی ہاکی کے کھیل کو پاکستان میں کھیلے جانے والےکھیلوں میں کلیدی حیثیت حاصل ہوگئی تھی لیکن جب جنرل محمد ایوب خان صدر پاکستان بنے تو انہوں نے 1960 کے روم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ہاکی کو قومی کھیل کا درجہ دے دیا.ا968 میں میکسیکو اولمپکس میں جب پاکستان نے گولڈ میڈل اپنے نام کیا تو پاکستان ہاکی کی سربراہی اور ذمہ داری ایئر مارشل نور خان اور برگیڈیئر منظور حسین عاطف کے کندھوں پر تھی.1971 میں بارسلونا میں پہللا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کو بھی کرنل دارا مرحوم اور کرنل ظفری کی رفاقت حاصل تھی. 1978 بیونس آئرس میں سبز ہلالی پرچم گولڈ میڈل کے ساتھ بلند کرنے والی قومی ہاکی ٹیم کو برگیڈیئر منظور حسین عاطف اور ایئرمارشل نور خان کی سربراہی میسر تھی. جن کی اتھاہ دلچسپی اور شبانہ روز کاوشوں سے قومی ٹیم کو پاکستان کے لئے اعزاز حاصل کرنے میں کامیابی ملی.1982 میں انڈیا میں عالمی کلپ جیتنے والی ٹیم کے مینجر بذات خود برگیڈیئر منظور حسین عاطف تھے.1994 سڈنی (آسٹریلیا) ورلڈ کپ کی تیاری میں کرنل سید مدثر اصغر نے دن رات ایک کردیا.جس کا ثمر پاکستان کو عالمی چیمپین ہونے کی صورت میں ملا. 1960 روم اولمپکس میں پاکستان کے لئےگولڈ میڈل لانے والی قومی ہاکی ٹیم کی قیادت برگیڈیئر حمیدی کررہے تھے اور جنرل موسیٰ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سرپرست تھے.1968 میں ایک بار پھر میکسیکو اولمپکس جیتنے کا اعزازکا سہرا برگیڈیئر منظور حسین عاطف اور ایئرمارشل نور خان کے سر پر بندھا.1984 میں مرد میدان برگیڈیئر منظورحسین عاطف ہی ٹھیرے اور پاکستان نے تیسری مرتبہ اولمپک ٹائٹل جیتا. 1971 کے عالمی کپ میں شرکت کے لئے جانے والی پاکستان ہاکی ٹیم کو جنرل اطہرخان نے وسائل مہیا کئے.1979، 1980 اور 1993 میں چیمپینزٹرافی جیتنے میں افواج پاکستان کی کہنہ مشق تربیت یافتہ اور پروفیشنل ٹریننگ سے مزین پاکستان ہاکی فیڈریشن کی قیادت نے اہم اور کلیدی کردار ادا کیا. جس میں بالخصوص کرنل سید مدثر اصغر، برگیڈیئر منظور حسین عاطف اور ایئر مارشل فاروق عمر کے نام تاریخ میں سہنری حروف سے لکھے جاچکے ہیں.

پاکستان ہاکی کا تابناک ماضی افواج پاکستان کی پرخلوص اور کہنہ مشق قیادت کی سرپرستی پر محیط نظر آتا ہے.اس دوران برگیڈیئر مسرت اللہ اور برگیڈیئرخالد سجاد کھوکھر بھی قومی کھیل کو سنبھالا دینے کے لئےمیدان عمل میں آئے لیکن اپنے سیکرٹریز آصف باجوہ، رانا مجاہد علی اور شہباز سینئر کی ناقص کارکردگی کی بدولت ماضی کے نتائج کو برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام رہے.اب وقت آگیا ہے کہ ایک مرتبہ پھرافواج پاکستان قومی کھیل کی سرپرستی کرتے ہوئے باصلاحیت کہنہ مشق، بے لوث اور قدآور شخصیات کو آگے لائیں جو کھیل کے جدید تقاضوں سے مزین سپورٹس سائنسز ماہرین، سپورٹس مینجمنٹ ،فنانشل مینجمنٹ، سپورٹس مرچنڈائزنگ، سپورٹس مارکیٹنگ، سائنٹفک ٹریننگ، سائنٹفک کوچنگ، سپورٹس فزیوتھراپسٹ، سپورٹس سائیکالوجسٹس، سپورٹس نیوٹریشنسٹ، سپورٹس میڈسن کے شعبہ جات میں مہارت رکھنے والے افراد کی ٹیم کے ساتھ پاکستان ہاکی کے بام عروج کی جانب سفر کا ایک نئے سرے سے آغازکریں تاکہ پاکستان اپنے کھوئے ہوئے اعزازات کو باری باری دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب و کامران ہوسکے

راقم الحروف لیجنڈاولمپین راؤسلیم ناظم کا خاص طور پر مشکور ہوں جنہوں نے پاکستان ہاکی کی تابناک تاریخ کے آئینوں سے گرد جھاڑنے میں میری مدد کی،محترم المقام لیجنڈ اولمپین راؤسلیم ناظم کے فقیر منش جملے کے ساتھ

” میری چادر آج بھی تیری دستار سے بہتر ہے”

پاکستان زندہ باد،پاکستان ہاکی پائیندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں