شمشیر بے نیام: “ہیجڑے کا بیٹا” تحریر:سید علی عباس سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ، کانگریس ممبر پاکستان ہاکی فیڈریشن

شمشیر بے نیام
تحریر: سید علی عباس
سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ
کانگریس ممبر پاکستان ہاکی فیڈریشن
ایم فل سکالرسپورٹس سائنسز

“ہیجڑے کا بیٹا ”

مشہور مقولہ ہے کہ ہیجڑے سے اولاد کی توقع کرنا بےوقوفی ہے، سمع خراشی نہ ہو تو زیر نظرتحریرکا ایک ایک حرف چیخ چیخ کرپاکستان ہاکی کی ورلڈ کپ میں بدترین کارکردگی پر نوحہ کنا ں ہے. ورلڈ کپ میں بیلجیم کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کے بعد پاکستان کو عالمی کپ کے ابتدائی راؤنڈ میں ہی ایونٹ سے باہر ہونا پڑا. پاکستان ہاکی فیڈریشن جو کہ پاکستان کے قومی کھیل کا منتظم ادارہ ہے اس صورتحال پر دم بخود ایک ایسے پریشان حال بزنس مین کی طرح کھڑا ہے، جس کو اپنے ہی کئے غلط فیصلے بھگتنے پڑتے ہیں.

پلاننگ اور مینجمنٹ کے شعبہ جات سے عاری پاکستان ہاکی فیڈریشن کا حال عین اس ہیجڑے کی مانند ہے جس سے ہم اولاد کی توقع لگائے بیٹھے ہیں. ایک محتاط اندازے کے مطابق سابق دور حکومت میں اندازا ایک ارب روپے کے لگ بھگ کی خطیر رقم گرانٹس اور دیگر فنڈز کی مد میں وصول کرنے والی پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قومی کھیل کو نیا ٹینلنٹ نکھار کردینے کی بجائے گھسے پٹے عمررسید اورمتروک شدہ کھلاڑیوں کو ترجیح دیتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ کھیلنے کا فیصلہ کیا.

سابق دور حکومت میں عہدوں کی خاطرملک بھرمیں متوازی تنظیم سازی کرکے ڈومیسٹک انفراسٹرکچرکو تباہ کردیا گیا. اس متوازی تنظیم سازی میں پنجاب سمیت سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان سمیت پاکستان کے تمام لگ بھگ چھوٹے بڑے اضلاع شامل ہیں. وومن ونگ کے نام پر پاکستان ہاکی کےارباب اختیار نے جو کالا کھیل کھیلا اس کا اندازہ حالیہ قومی وومن ہاکی چیمپین شپ میں 25 ،25 گول کھانے والی ٹیموں کی کارکردگی سے لگایا جاسکتا ہے. سپورٹس کی اصطلاح میں کھلاڑی کو جنس ،رنگ اور نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایونٹ میں کارکردگی کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے لیکن افسوس کہ پاکستان میں وومن ہاکی کے نام نہاد فلسفہ گیر اپنی فتنہ پرداز، جاہلانہ اور گھٹیا ذہینیت کی بناء پر وومن ہاکی میں ایک مخصوص ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش میں رہے لیکن پنجابی کا مشہور مقولہ ہے کہ “سارا گاؤں بھی مرجائے تو میراثی کا لڑکا چوہدری نہیں بن سکتا”.

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے موجودہ ارباب اختیار نے جس بے دردی اورڈھٹائی سے قومی کھیل کے لئے مہیا گی گئی گرانٹس کا استعمال کیا اس کا خمیازہ آنے والے 10 سال تک پاکستان ہاکی کو برداشت کرنا پڑے گا. پلاننگ، مینجمنٹ اور ہاکی ویژن سے عاری پی ایچ ایف عہدیداران نے قومی خزانے کو پانی کی طرح بہادیا.ایک عادی جوئے باز کی مانند جوئے میں بیوی تک ہارنے کی مثال پی ایچ ایف کی موجودہ مینجمنٹ پر صادر آتی ہے. ایک روشن مستقبل کا خواب دکھا کرہاکی ویژن ، ہاکی فیملی اور ہاکی کی بہتری کے بلند وبانگ دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے. پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار کی جانب سے پروسیجرل غلطیوں کے نام پر کی گئی کرپشن کے قصے میڈیا میں منظر عام پر رہے.

لگ بھگ ایک ارب روپے کی خطیر رقم کو گرانٹس کی صورت میں وصولی کے باوجود قومی کھیل میں ٹینلںٹ ہنٹ سکیم، ٹیلنٹ کو نکھارنے کی پلاننگ، سپورٹس ایجوکیشن پروگرام، فیڈریشن کے زیرانتظام ہاکی اکیڈمیز کا سیٹ اپ، ٹیکنیکل آفیشلزکی ٹریننگ کا ادارہ،ہاکی کے ڈومیسٹک ایونٹس کرانےکا جامع پلان، نیشنل سینئر،جونیئر، انڈر14 ،16 ،18 اورانڈر 21 ٹیموں کی تیاری سمیت قومی کھیل کی بہتری کا ایک بھی پلان پر جامع عملدرآمد نہ ہوسکا. پی ایچ ایف کی کارکردگی ایک بڑے صفر کے علاوہ کچھ نہیں رہی. جس کا جواب طلبی حکومت پاکستان ہی کرسکتی ہے.

پاکستان ہاکی کو ترقی دینے کے لئے کسی راکٹ سائینس کی ضرورت نہیں بلکہ ایک ایماندار،مخلص اور پیشہ ورانہ قیادت کی ضرورت ہے. جس کا ایجنڈاذاتی مفاد کی بجائے صرف اور صرف قومی مفاد ہو. پاکستان ہاکی فیڈریشن میں سپورٹس سائینسز کے ماہرین سمیت ڈومیسٹک انفراسٹکچر کی بحالی کے لئے گراس روٹ لیول پر مخلصانہ کام کرنے والے افراد کے تعین کی ضرورت ہے. ایک مخصوص سیاسی ٹولہ اور انکے حواری،جواری،درباری حلقہ نے قومی کھیل کو تباہی کے کنویں میں دھکیل دیا ہے. ایونٹ مینجمنٹ، فنانشل مینجمنٹ، آرگنازیشنل افیئرز مینجمنٹ، مورال مینجمنٹ، سائینٹفک ٹریننگ اور کوچنگ کے شعبہ جات سے عاری ہاکی فیڈریشن سپورٹس مرچنڈائزنگ، سپورٹس مارکیٹنگ کے شعبہ جات کو بھی مسلسل نظر انداز کرکے چوراہے کے سگنل پر کھڑی فقیرنی کی مانند بچے(کھلاڑی) دکھا کر ہر آنے جانے والی گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹا کر امداد مانگتی ہے.

پاکستان زندہ باد، پاکستان ہاکی پائیندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں