قومی وومن ہاکی چیمپین شپ: رمضان جمالی کو لڑکیاں دیکھنے کا شوق تھا تو خواتین ممبرز کو ٹرائلز کی ذمہ داری کیوں سونپی گئی، ہاکی آرگنائزربینا

کراچی:27اکتوبر:پلیئرزڈاٹ پی کے) قومی وومن ہاکی چیمپین شپ: سندھ میں خواتین ہاکی ٹیم کے ٹرائلزسرخ فیتے کی نظرہوگئے، ہاکی ٹرائلزسیاسی ڈرامہ قرار، خواتین کے ٹرائلز میں مردوں کی مداخلت پر کھلاڑی معترض، وومن ٹرائلز کمیٹی کے باوجود گاندھی کے بندرکی پالیسی لاگو، رمضان جمالی کو لڑکیاں دیکھنے کا شوق تھا تو خواتین ممبرز کو ٹرائلز کی ذمہ داری کیوں سونپی گئی؟ خواتین ممبرز کو ڈمی کے طور پر رکھا گیا تھا؟ خواتین کھلاڑیوں کو کب تک اسی طرح بے وقوف بنایا جاتا رہے گا؟ وومن ہاکی آرگنائزربینا

قومی وومن ہاکی چیمپین شپ میں شرکت کے لئے سندھ ہاکی ٹیم کے لئے اوپن ٹرائلزکا انعقاد کیا گیا جس میں ارم بخاری اور شاہین فاطمہ کو کراچی،حیدرآباد اور میرپور خاص کے کھلاڑیوں کے ٹرائلز کے امور سرانجام دینے کے لئے پی ایچ ایف کے حمائت یافتہ سندھ ہاکی ایسوسی ایشن (رمضان جمالی گروپ) نے نامزد کیا. سندھ کے دور دراز علاقوں سے خواتین ہاکی کھلاڑی ٹرائلز کے لئے پہنچیں تو نام درج کروانے کے بعد ٹرائلز کے امور سرانجام دینے والی خاتون ممبرشاہین فاطمہ چپکے سے گراؤنڈ سے کھسک گئیں، کھلاڑیوں کی جانب سے ٹرائلز میں تاخیر اور کافی انتظار کے بعد استفسار پر معلوم ہوا کہ ٹرائلز سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے متنازعہ سیکرتری رمضان جمالی کے انتظار میں تاخیر کا شکار ہیں. جس پر گراؤنڈ میں موجود خواتین کھلاڑیوں نے احتجاج کیا کہ خواتین ممبر کو ذمہ داری سونپنے کے باوجود مردوں کی مداخلت کو کیوں ملحوظ رکھا جارہا ہے. لیکن انتظامیہ گاندھی کے بندر کی پالیسی پر عمل پیرا رہی اور کان بند،زبان بند،آنکھ بند کے اصولوں پر کاربند ہوتے ہوئے قومی کھیل کی تباہی پالیسی پر عمل کرتی رہی.

قومی وومن ہاکی چیمپین شپ میں شرکت کے لئے سندھ ہاکی ٹیم کے قیام کے لئے لئے گئے ٹرائلز کو جعلی اور ڈرامہ قرار دینے والی وومن ہاکی آرگنائزربینا نے کہا ہے کہ سندھ میں ہاکی ٹیم کا انتخاب محض پرچی سسٹم پر ہوا، انہوں نے کہا کہ اگر رمضان جمالی کو لڑکیاں دیکھنے کا شوق تھا تو خواتین ممبرز کو ٹرائلز کی ذمہ داری کیوں سونپی گئی؟ کیا ان خواتین کو ڈمی کے طور پر رکھا گیا تھا؟ کھلاڑیوں کو کب تک اسی طرح بے وقوف بنایا جاتا رہے گا؟ انہوں نے کہ کہ کامیاب ٹرائلز کی خبریں اخبار میں چھپوانے سے ہاکی کی بہتری ممکن نہیں ، کامران اشرف، افتخار سید جیسے لوگوں کی موجودگی میں ایسے واقعات رونما ہونا افسوس ناک امر ہے. قومی کھیل کی بہتری کا خواب دیکھنے والے عملی اقدامات پر بھی توجہ دیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں