پی ایچ ایف میں محسن کا گلہ پکڑنا روائت بن گئی، ہالینڈ میں70ہزاریورولینےکاکچاچٹھا کھل گیا، طاہرشاہ اقرارمیدان میں آگئے

لاہور:10اکتوبر(پلیئرزڈاٹ پی کے) پاکستان ہاکی فیڈریشن میں محسن کا گلہ پکڑنا روائت بن گئی، ہالینڈ میں70ہزاریورولینےکاکچاچٹھا کھل گیا، ہالینڈ میں پاکستان کی عزت کی خاطرادھاررقم کا بندوبست کرنے والے طاہرشاہ اقرارمیدان میں آگئے،پاکستان ہاکی فیڈریشن کی موجودہ مینجمنٹ نے احسان فراموشی کے ریکارڈ توڑ ڈالے

اسی سال جون 2018 میں ہالینڈ میں ہونے والی چیمپینز ٹارفی کے دوران 29 جون کو قومی ہاکی ٹیم کے مینجراولمپئین حسن سردار نے طایر شاہ اقرار کو فون کرکے 58 ہزار یورو مانگے تاکہ ٹیم کے فارن کوچ رولینٹ آلٹمینز کو انکا معاوضہ ادا کیا جاسکے جو کہ انہوں نے اچانک مطالبہ کردیا تھا کہ اگر معاوضہ فی الفورادا نہ کیا تو میچ نہیں کھلائیں گے.اچانک اتنی بڑی رقم کابیرون ملک بندوبست کرنا جوئےشیر لانے کے مترادف ہوتا ہے. دیارغیرمیں ایسے کڑے وقت میں پاکستان ہاکی کی عزت اور توقیرکو بچانے اورایسے کڑے وقت میں سہارا بننے کے لئے پاکستان ہاکی ٹیم کے مینجر حسن سردار کی نظر انتخاب طاہر شاہ اقرارپر ٹھہری، جس پر طاہرشاہ اقرار نے انکو کہا کہ آپ فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل شہباز سینئر سے بولیں کہ وہ اس سلسلہ میں مجھ سے رابطہ کرلیں تاکہ رقم کے لین دین میں ذمہ دار کا تعین ہوسکے. تھوڑی دیر میں شہباز سینئر کا فون آگیا اور انہوں نے اس رقم کا بندوبست کرنے کی درخواست کی جس پر طاہر شاہ اقرار نے اپنے ایک قریبی دوست کو رقم کا بندوبست کرنے کے لئے درخواست کی. دوست نے کہا کہ آپ پی ایچ ایف کو بولیں کہ پاکستان میں میرے والد کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرادیں جو کہ جمع کرادی گئی جس پر رقم کی ہالینڈ میں 58 ہزار یورو کی ادائیگی کردی گئی.دوروز بعد ہی حسن سردار نے مزید 10 ہزار یورو مانگ لئے جو کہ مہیا کئے گئے جسے بعد ازاں واپس ادا بھی کردیا گیا.

احسان فراموشی کی حد اس وقت ہوئی جب ہالینڈ میں پاکستان ہاکی ٹیم کے ساتھ بطور اسسٹنٹ کوچ موجود ریحان بٹ نے ایک میڈیا پروگرام میں رقم ادھار لینے کے سوال پر تضحیک آمیز رویہ اختیار کرلیا، ہالینڈ میں کوچنگ کی بجائے نلوں سے پانی بھرنے والے اسسٹنٹ کوچ ریحان بٹ جس کو بطور آفیشل چیمپیئنز ٹرافی میچز میں آفیشلز بینچ پر بیٹنے نہیں دیا گیا تھا، اس تمام واقعہ میں طاہر شاہ اقرار کے احسن کردار اور انکی کاوشوں اور کڑے وقت میں قومی کھیل اور پاکستان کی عزت کی خاطربطور محسن کام آئے لیکن اسسٹنٹ کوچ ریحان بٹ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی ترجمانی کرتے ہوئے اس احسان کا بدلہ خوب احسان فراموشی سے چکایا. طاہر شاہ اقرار کی احسان مندی اور قومی احساس کے جذبہ کی تعریف کرنے کی بجائے کے طوطا چشمی کے ساتھ کام لیتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ” طاہر شاہ کی اوقات ہی نہیں کہ وہ پی ایچ ایف کو اتنی بڑی رقم دے”.

پاکستان ہاکی فیڈریشن اور ٹیم مینجمنٹ کے میڈیا میں اس موقف پر طاہر شاہ اقرار ہی نہیں بلکہ بیرون ملک مقیم ہر پاکستانی محب وطن اور شائقین ہاکی کو سخت دلی صدمہ ہوا، قومی جذبہ اور محب وطن پاکستانی ہونے کا فرض نبھانے والوں کو سلام پیش کرنے کی بجائے ایسے الفاظ سے نوازنے اور احسان فراموشی کی بدترین مثال قائم کرنے پر پاکستان ہاکی فیڈریشن اور ٹیم مینجمنٹ کو طاہر شاہ اقرار سمیت بیرون ملک مقیم محب اطن پاکستانیوں اور شائقین ہاکی سے معافی مانگنی چاہیئے اور ٹیم مینجمنٹ کو پابند کرے کہ آئیندہ ایسا کوئی بیان ہاکی فیڈریشن کا موقف بنا کر پیش نہ کرے جس سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے عزت و وقار پر آنچ آئے اور قومی کھیل کی بدنامی ہو.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں