شمشیر بے نیام: “محبت اور جنگ” تحریر: سید علی عباس سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ، کانگریس ممبر پاکستان ہاکی فیڈریشن

شمشیر بے نیام
تحریر: سید علی عباس
سپورٹس مینجمنٹ انالسٹ
کانگریس ممبر پاکستان ہاکی فیڈریشن
ایم فل سکالرسپورٹس سائنسز

“محبت اور جنگ”

کہتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن میں قومی کھیل کی محبت میں مسند اقتدار پر براجمان ہونے والے ارباب اختیار عنان حکومت ہاتھ میں آتے ہی مقصدیت سے ہٹ جاتے ہیں، قومی کھیل کے اہداف پر مصلحتوں، منافقتوں اور تہمتوں کےگہرے اثرات غالب آجاتے ہیں جو کہ ہر گذرتے لمحہ کے ساتھ قومی کھیل کی ترقی کی راہ میں مزید دوریاں پیدا کرتے جاتے ہیں. تبدیلی کی ہوا چلتے ہی قومی کھیل کا انتظامی ادارہ پاکستان ہاکی فیڈریشن آج کل ایک بار پھر انہی مصلحتوں ، منافقتوں اور تہمتوں کے اثرات کے زیر عتاب ہے.

ایشین گیمز میں گولڈ میڈل کی دوڑ سے باہر ہوتے ہی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ناقدین نے ہاکی فیڈریشن کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا شروع کردیا جبکہ دوسری جانب ہاکی فیڈریشن کے عہدیدار بھی اپنی عزت اور ساکھ بچانے کے لئے قریبی ساتھیوں اور ہم خیال دوستوں کو میدان میں لے آئے، اس کے بعد بیانات کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا کہ اچھے برے کی تمیز بھول گئی. اصولی باتوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے دونوں جانب سےالزامات،صفائیاں،تہمتیں اور برائیاں ایک بند ٹوٹے دریا کی مانند بہہ نکلیں جس میں پاکستان ہاکی کے تقریبا تمام چہرے دھل کر سامنے آگئے، کسی نے کردار کو تولا تو کوئی ذات پر بولا، کسی نے زبان درازی کی تو کسی نے دشنام طرازی کی ، جو کل تک شیر وشکر تھے وہ آج دست و گریباں نظر آئے. محبت اور جنگ کی اس لڑائی میں سب جائز سمجھ کر ہر ایک نے اپنا حصہ ڈالا جس پر شائقین ہاکی انگشت بدنداں نظر آئے.اس تمام لڑائی میں پاکستان ہاکی بالکل اس لاغر بڑھیا کی مانند نظر آئی جس کے جوان بیٹے اس کی جائیداد نکل آئے پراپنا اپنا حق جمانے لگتے ہیں اور مطلب پورا ہونے کے بعد گھر کے کونے میں لاوارث پھینک دیا جاتا ہے.

پاکستان ہاکی اپنے تابناک ماضی کے ساتھ فتوحات کا خزانہ سمیٹے روشن ممستقبل کی آس لئے اپنی حالت زار درست ہونے کے انتظار میں لاغر اور کمزور ہوچکی ہے، ایسے وقت میں اسکو جوان اورباصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم جو کہ سائینٹفک ٹریننگ اور کوچنگ سے مزین ہو، کی اشد ضرورت ہے. پاکستان ہاکی فیڈریشن میں مینجمنٹ اور پلاننگ کی کمی اور اس سے بھی بڑھ کر ارباب اختیار میں سے بیشتر کا متعلقہ شعبہ جات کا اہل نہ ہونا اس ترقی کے آڑے آتا رہا.ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں نے جس میں گراس روٹ لیول پر کوچنگ پلان، کلب ہاکی، سکول، کالج اور یونیورسٹی لیول ہاکی، ڈومیسٹک ٹورنامنٹس، انٹر ڈسٹرکٹ چیمپئین شپس، انٹر ریجن چیمپئین شپس، نیشنل سینئر و جونیئر ہاکی چیمپئین شپس، سپورٹس کیلنڈرپر بیشتر ایونٹس میں التواشامل ہے، ان پالیسیوں نے قومی کھیل کی مقبولیت میں حیران کن حد تک کمی کی. بالائے ستم قومی کھیل میں تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند داخل ہونے والے ایشین ہاکی فیڈریشن کی کاوشوں سے ملنے والا ایونٹ “ہاکی سیریز اوپن” بھی کھٹائی کا شکار نظر آتا ہے.

راقم الحروف نے ماضی قریب میں ایک جملہ لکھا تھا کہ “پاکستان ہاکی فیڈریشن مستری سے مصورکا کام لے رہی ہے” یعنی اہل افراد کا تعین اور تقررکیا جانا ضروری ہے.پی ایچ ایف میں سپورٹس نیوٹریشن ایکسپرٹس، سپورٹس سائیکالوجسٹس، سپورٹس ٹرینرز، سیورٹس ایونٹ مینجمنٹ، سپورٹس فزیوتھراپسٹس،سپورٹس میڈیسن ڈاکٹر، سپورٹس فزیشن، اینٹی ڈوپنگ سینٹرسمیت آرگنایزیشنل انفراسٹکچر مینجمنٹ، انٹر ڈیپارٹمنٹ کمیونیکیشن ،سپورٹس مارکیٹنگ، سپورٹس مرچنڈائزنگ کے ماہرین کی کمی ہے. ان تمام شعبہ جات کے فعال ہونے تک قومی کھیل کا ادارہ ایک مکمل اور کامیاب ادارہ بننے میں وقت لے گا. پاکستان ہاکی کے معاملات چلانا راکٹ سائینس نہیں بلکہ ایماندار، مخلص اور وسائل کا بہترین استعمال کرنے والے اہل افراد کاتعین اور تقرر ہے تاکہ قومی کھیل کا ادارہ دوبارہ سے اپنے تابناک ماضی کی مانند اپنے روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوسکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں