شہباز سینئرتوقعات پرپورا نہ اترسکے،ناکامی قبول کریں،الگ ہوجائیں،صدرپی ایچ ایف کوسخت فیصلے لینا ہونگے،اولمپئین نوید عالم

شیخوپورہ:09ستمبر(پلیئرزڈاٹ پی کے / سید علی عباس) پی ایچ ایف ہاؤس کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ شہباز سئنیرکو بچانا ہے یا پھر پاکستان ہاکی کو، سیکرٹری کے عہدے پر قابل اور مضبوط شخص کی ضرورت ہے، جو ایسی پالیسیاں بنائے جس سے ہم نیک نامی کماسکیں ، پاکستان ہاکی فیڈریشن ذاتی خواہشات پر نہیں چل سکتی،شہباز سینئرتوقعات پرپورا نہ اترسکے،ناکامی قبول کریں،الگ ہوجائیں،صدرپی ایچ ایف کوسخت فیصلے لینا ہونگے، نوٹس کے معاملے پرکانگریس ممبران کو جوابدہ ہوں، ہاکی کی بربادی کے محرکات پر منگل کے روز میڈیا کانفرنس کرونگا، اولمپئین نوید عالم

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک سابق اولمپئین نوید عالم نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری ہونے پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن ایک ادارہ ہے جس کو ذاتی خوہشات پر نہیں بلکہ کارکردگی پر چلایا جائے گا. انہوں نے کہا کہ دوست نواز پالیسیوں کو بھول کر قومی کھیل کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا جاتا تو بہتر ہوتا.شوکاز نوٹس جاری کرنے والے کو اہمیت دینا نہیں چاہتا، شوکاز نوٹس ایک مزاحیہ تحریر ہے جس کا جواب کانگریس میٹنگ میں دونگا. انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی ٹیم کی بری کارکردگی پر تمام کانگریس ممبران کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے ، ہم پاکستان ہاکی کی بہتری چاہتے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے تحت سپورٹس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے قومی کھیل کی بحالی اور ترقی کا سفرطے کریں گے.

کانگریس ممبراولمپئین نوید عالم نے کہا کہ اب ذمہ داروں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اپنے مفادات کے لیے عہدوں پر قابض رہنا ہے یا پھر قومی کھیل کا درد رکھنے والوں کے ہاتھوں میں پی ایچ ایف کی باگ ڈور سونپنی ہے، سیکرٹری پی ایچ ایف شہباز سینئر کا بہت احترام کرتا ہوں لیکن ان سے جوتوقعات تھیں، وہ بالکل اس پر پورا نہں اترسکے۔ انہیں اب خود ہی تمام تر ناکامی قبول کرتے ہوئے الگ ہوجانا چاہیے تاکہ اس سیٹ پر بہتر ورکنگ کرکے ہاکی کی نیک نامی کو بحال کیا جاسکے۔ صدر خالد سجاد کھوکھر کواب سخت فیصلے کرنا ہوں گے

ڈائریکٹر ڈومیسٹک ڈویلپمنٹ پی ایچ ایف،سابق ورلڈ چیمپئین اولمپئین نوید عالم نے کہا کہ صدرپی ایچ ایف کی ہادایات پر پیر تک خاموش ہوں منگل کے روز پریس،میڈیا کانفرنس کرونگا جس میں پاکستان ہاکی کے زوال کے محرکات، اقرباءپروری، بے ضابطگیوں. جانبدارانہ پالیسیوں، خلاف آئین پالیسیوں اور مارکیٹنگ افیئرز سے متعلقہ کئی اہم معاملات سے پردہ اٹھائیں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں