سپورٹس سائنسز ماہرین کی خدمات سے استفادہ حاصل کئے بغیر قومی کھیل میں ترقی ممکن نہیں، ضیاء الدین برکی

لاہور:08اگست (پلیئرزڈاٹ پی کے / سید علی عباس) سپورٹس سائنسز کے ماہرین کی خدمات سے استفادہ حاصل کئے بغیر قومی کھیل کے معیار کو بہتر بنانا ناممکن ہے. کھلاڑیوں میں اعتماد کی کمی انکی پرفارمنس میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے. سپورٹس سائیکالوجسٹ ضیاء الدین خان برکی
سابق انٹرنیشنل ہاکی ایمپائر و مشہور سپورٹس جرنلسٹ بازید احمد خان برکی کے فرزند سابق ہاکی پلیئر و سپورٹس سائیکالوجسٹ ضیا الدین خان برکی نے کہا ہے کہ بیشترقومی ٹیموں میں سپورٹس سائنسز کے افراد کی خدمات سے استفادہ نہیں لیا جاتا جسکہ وجہ سے ہم جدید تقاضوں کے مطابق پرفارمنس نہٰن دے پارہے،کھلاڑیوں میں مقابلے کا رجحان، مسلسل تربیت، موسم کی شدت، نیا میچ کھیلنے کی ٹینشن، ہار جیت کا خوف، کھلاڑیوں کو چوٹ کے خطرات اور اس طرح کے دیگرمسائل سے دوچار ہونے کے کئی محرکات کھلاڑیوں کی پرفارمنس پر اثرانداز ہوتے ہیں .جس کو سپورٹس سائیسز کے ماہرین جن میں سپورٹس سائیکالوجسٹ، سپورٹس میڈیسن ڈاکٹر، سپورٹس ٹرینر، سپورٹس فریو تھراپسٹ، سپورٹس نیوٹریشنسٹ کا مکمل سپورٹس سائینسز پیکیج ایسے معاملات کو بہتر انداز میں سلجھانے میں کھلاڑیوں کو ممدومعاون ہوسکتا ہے.
ضیاءالدین خان برکی نے کہا کہ پاکستان اگر کھیلوں میں ترقی کرنا چاہتا ہے تو سپورٹس سائینسز ماہرین کی خدمات سے استفادہ حاصل کرے،انہوں نے کہا کہ قومی ہاکی ٹیموں میں ابھی تک ایسے افراد کی خدمات سے استفادہ حاصل نہیں کیا گیا. انہوں نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں کی گرومنگ کے لئے جسمانی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتوں پر بھی برابری کی بنیاد پر کام کرنا ہوگا جس کے لئے سپورٹس سائیسز ماہرین کی خدمات سے استفادہ حاصل کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں