چور راستہ سے سیکرٹری بننے کی دوڑ میں مصروف اصلاح الدین نےسلیکشن کمیٹی سے فارغ ہوتے ہی پی ایچ ایف سے آنکھیں پھیر لیں

لاہور:06 اگست(پلیئرزڈاٹ پی کے / شفقت ملک) چور راستہ سے سیکرٹری بننے کی دوڑ میں مصروف اصلاح الدین نےسلیکشن کمیٹی سے فارغ ہوتے ہی پی ایچ ایف سے آنکھیں پھیر لیں، اصلاح الدین نے پاکستان ڈومیسٹک سکواڈ کے نام پر بننے والی ٹیم کے دورہ کینیڈا پر انگلیاں اٹھا دیں، دورہ پیسے کا ضیاع اور غیر ضروری تھا، سابق اولمپئین اصلاح الدین
سندھ سپورٹس سکینڈل کے مرکزی کردار اور پاکستان ہاکی ٹیم کے چیف سلیکٹرسابق اولمپئین اصلاح الدین نے عہدہ سے اصولی فراغت کے فورا بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن سے آنکھیں پھیر لیں.ایک سپورٹس چینل پر بیٹھ کر اصلاح الدین نے پاکستان ڈومیسٹک سکواڈ کے نام پرشہباز سینیئر کے قریبی رفقاء کامران اشرف اور قمر ابراہیم کی خواہشات پر کینیڈا بھجوائی جانے والی ٹیم کوہاکی فیڈریشن کی ناقص حکمت عملی قرار دیا. انہوں نے کہا کہ اگر پیسوں کی اتنی تنگی تھی کہ کھلاڑیوں کو واجبات کی ادائیگی نہیں ہوبائے گی تو ہاکی فیڈریشن کو سوچ سمجھ کر ٹیم کو باہر بھجوانا چاہیئے تھا. ان کے مطابق ناقص حکمت عملی اختیار کی گئی، چونکہ اولین ترجیح ایشئن گیمز تھی اگر ٹیم کو کینیدا نہ بھجوایا جاتا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جونئیر ورلڈ کپ کا ایونٹ بھی نہیں ہورہا تھا اس دورہ کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا.یاد رہے کہ اس دورہ میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ایک خطیر رقم خرچ کرنا پڑی اور دو پیاروں کی خوشنودی کرنے کے لئے بھجوائی جانے والی ٹیم نے وہاں ریکارڈ 26 گول کھائے اور صرف دو گول کیئے.
معتبرذرائع کے مطابق سندھ سپورٹس سکینڈل کے مرکزی کرداراولمپئین اصلاح الدین چور راستہ سے فیڈریشن کے سیکرٹری بننے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں، انکی ان کوششوں میں کراچی اور اسلام آباد سے دو شخصیتیں بھی بھاگ دوڑ کررہی ہیں. ذرائع کے مطابق اصلاح الدین صدیقی اس کوشش میں کامیابی شاید نہ حاصل کرپائیں کیونکہ ممکنہ طور پر نئی آنے والی تحریک انصاف کی حکومت کے سربراہ عمران خان کرپٹ اور مالی بدعنوانیوں میں ملوث سفارشی افراد کو ذمہ داریاں نہیں سونپیں گے
دوسری جانب گذشتہ سے پیوستہ میں اولمپئین حسن سردار بھی ماضی میں بیان دے چکے کہ فارن کوچ پر رقم خرچ کرنا فنڈز کا ضیاع اور پاکستان ہاکی فیڈریشن پر بوجھ کا باعث ہوگا جس کے ہم ہرگز متحمل نہیں، انہوں نے کہا کہ قومی کھیل کی بہتری اسی میں ہے کہ ملکی کوچ کو تعینات کیا جائے ایسے بیانات دینے کے بعد موصوف نے بھی فیڈریشن کی جانب سے پرکشش عہدہ ملنے پر چپ کا روزہ رکھ لیا.
اولمپئین وسیم فیروز نے کہا ہاکی فیڈریشن مینجمنٹ کو فی الفور تبدیل کردینا چاہیئے، انہوں نے کہا کہ میری رائے میں اولمپئین سمیع اللہ ایماندار شخص ہیں اور انکو پاکستان ہاکی فیڈریشن کا صدر ہونا چاہیئے جبکہ کراچی سے تعلق رکھنے والے انٹرنیشنل کھلاڑی سمیر حسین نے کہا ہے کہ سمیع اللہ ہاکی کو سمجھتے ہیں اور اپنے ذمہ داری کو نبھانا جانتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں