پی ایچ ایف مینجمنٹ وسائل کے باوجود کوئی مضبوط انفراسٹرکچر متعارف نہ کراسکی، ہاکی فیڈریشن میں تبدیلی ناگزیر ہے، اولمپئین خواجہ جنید

لاہور:05اگست(پلیئرزڈاٹ پی کے) پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کاردگی صفر رہی، موجودہ مینجمنٹ کے پاس ہاکی وژن کو متعارف کرانے میں ناکام رہی، نیشنل ٹیم پر توجہ مرکوز رکھنے کی بجائے ڈومیسٹک انفراسٹرکچر مضبوط کیا جاتا تو بہتر تھا، سب سے پہلے پاکستان ہاکی ٍفیڈریشن مینجمنٹ کو تبدیل کرنا چاہیئے. اولمپئین خواجہ جنید
سابق کپتان و ہیڈ کوچ پاکستان ہاکی ٹیم اولمپئین خواجہ جنید نے کہا کہ بلند و بانگ دعووں کے باوجود پی ایچ ایف مینجمنٹ پچھلے 3 سال سے کوئی ہاکی وژن متعارف نہ کراسکی. انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی کے معاملات ایک پھوھڑ عورت کی مانند چلائے جارہے ہیں .افسوس کی بات ہے کہ ہاکی کے معیار میں بہتری نہیں آئی. چیمپئینز ٹرافی میں چھ ٹیموں میں چھٹے نمبر پر آنے کو اگر آپ پرفارمنس کہیں گے تو آپ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھ رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ میں نےبارہا فیڈریشن کی ہاکی کی پروموشن سے متعلقہ کئی اہم معاملات پرتوجہ دلانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا.
اولمپئین خواجہ جنید نے کہا کہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اور اس کی کارکردگی صفر رہی. پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار کسی بھی قسم کی حکمت عملی کو متعارف کرانے میں ناکام رہے، افسوس کی بات ہے کہ سابقہ حکومت نے قومی کھیل کو بے شمار وسائل سے نوازا لیکن افسوس کہ اس کا چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا گیا. انہوں نے کہا کہ کس بھی قسم کی حکمت عملی کے بغیر ہاکی فیڈریشن کے معاملات کو چلایا گیا.
سابق اولمپئین خواجہ جنید نے کہا کہ قومی کھیل کی کارکردگی ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے.پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار صرف نیشنل ٹیم پر توجہ مرکوز کیئے بیٹھے رہے جبکہ پچھلے تین سالوں میں ڈومیسٹک انفراسٹرکچر پر کسی بھی قسم کا کام نہیں کیا گیا.انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹیوں ، مینجرز اور کوچز کی تقرری تنزلی سے ہاکی بہتر نہیں ہوگی. اولمپئین خواجہ جنید نے کہا کہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اورجس طرح کرکٹ میں تبدیلی کی بات ہورہی ہے میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے پاکستان ہاکی ٍفیڈریشن مینجمنٹ کو تبدیل کرنا چاہیئے اور کسی اور کو پرفارم کرنے کا موقع ملنا چاہیئے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں